اسلامی کلام وہ علمی شعبہ ہے جو عقلی اور نقلی طریقوں کی بنیاد پر اسلام کے اعتقادی اصولوں اور بنیادی عقائد کی تشریح، اثبات اور دفاع سے متعلق ہے۔ اس پروگرام میں طلبہ کو اسلامی عقائد، علمِ کلام، اسلامی فلسفہ، منطق، ادیان و مذاہب، دینی معرفت اور معاصر کلامی مسائل سے متعلق بنیادی اور تخصصی تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔
اس کورس میں حوزوی، عمومی، بنیادی اور تخصصی مضامین کو ایک جامع تعلیمی ڈھانچے میں پیش کیا گیا ہے۔ طلبہ کو اسلامی عقائد کے استدلالی مطالعے، مختلف مذہبی و فکری مکاتبِ فکر کے تعارف، معاصر کلامی مسائل کے تجزیے اور اسلامی عقائد کے علمی دفاع کے لیے ضروری علمی اور تحقیقی صلاحیتیں حاصل ہوتی ہیں۔
یہ پروگرام اسلامی تعلیمات کے میدان میں تحقیق، تدریس اور علمی سرگرمیوں کے لیے طلبہ کو تیار کرنے کے ساتھ ساتھ جدید فکری اور اعتقادی شبہات کا علمی اور استدلالی جواب دینے کی صلاحیت بھی پیدا کرتا ہے۔
Objectives of the course
اس پروگرام کے اہم مقاصد درج ذیل ہیں:
علمِ کلام اور اسلامی عقائد کے بنیادی مباحث سے طلبہ کو واقف کرانا۔
اسلامی اعتقادات کو تحلیلی، استدلالی اور علمی انداز میں سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔
اسلامی عقائد کے استنباط، تشریح اور دفاع کے لیے محققین کی تربیت کرنا۔
اسلامی عقائد کے علمی اور استدلالی دفاع کی صلاحیت پیدا کرنا۔
دینی اور اعتقادی شبہات کا علمی انداز میں جائزہ لینے اور ان کے جوابات فراہم کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔
مختلف اسلامی فرق و مذاہب اور ان کے اعتقادی نظریات سے واقفیت پیدا کرنا۔
مختلف ادیان اور مذہبی افکار کا علمی تعارف فراہم کرنا۔
اسلامی فلسفے اور اس کے بنیادی مباحث سے طلبہ کو آشنا کرنا۔
منطق اور استدلال کے اصولوں میں مہارت پیدا کرنا۔
معاصر کلامی مسائل اور نئے اعتقادی سوالات کے تجزیے کی صلاحیت پیدا کرنا۔
بین الادیان اور تقابلی الٰہیات کے مباحث سے واقفیت پیدا کرنا۔
دینی معرفت اور معرفتِ دینی کے بنیادی مباحث کا مطالعہ کرنا۔
قرآن و حدیث سے متعلق معارف اور بنیادی مصادر سے استفادہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔
فقہ اور اصولِ فقہ کے بنیادی مباحث سے طلبہ کو آشنا کرنا۔
عربی زبان اور اسلامی علمی متون کے مطالعے کے لیے ضروری علمی بنیاد فراہم کرنا۔
تحقیق کے اصول اور علمی طریقۂ کار سے طلبہ کو واقف کرانا۔
اسلامی کلام کی تاریخ، مصادر اور علمی ارتقا سے آگاہی پیدا کرنا۔
معاصر کلامی افکار اور مختلف فکری مکاتبِ فکر کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔
اعلیٰ تعلیمی سطح پر تدریس کے لیے ضروری علمی بنیاد فراہم کرنا۔
اسلامی کلام کے میدان میں علمی تحقیق اور علمی پیداوار کو فروغ دینا۔
اسلامی عقائد اور اصیل اسلامی تعلیمات کے مؤثر علمی دفاع کے لیے طلبہ کو تیار کرنا۔
Subjects offered
1. کلام اسلامى اور جدىد کلامى مسائل:
ىہ ہمارے پروگرام کا بنىادى حصّہ ہے جس مىں دىنى عقائد کا تحلىلى اور عقلى مطالعہ کرتے ہوئے ان پر پىش کىے گے دلائل کا جائزہ لىا جائےگا۔ پہلے حصّے مىں طلباء کلام اسلامى کے بنىادى عقائد (توحىد٬ عدل٬ نبوت٬ امامت اور معاد) سے آشناىى کے بعد کلام اسلامى کے مسائل کا تفصىلى اور استدلالى مطالعہ کرىں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ اعتقادات اور کلام اسلامى کے مختلف ماڈىولز(Modules) مىں اسلام کے مختلف فرقوں(اشاعرہ٬ معتزلہ٬ شىعہ و ۔۔۔) کے مابىن اختلافى مسائل کابھى تفصىلى جائزہ لىا جائے گا۔
دوسرے حصّے مىں عصر حاضر کے جدىد کلامى مسائل پر روشنى ڈالى جائے گى جو ہمارے نوجوانوں اور جوانوں کے ذہنوں کو مشوّش کرتے ہىں۔ مثلا سائنس اور ٹىکنالوجى کى پىشرفت اور عقل انسانى کى عروج کو دىکھتے ہوے بعض اس نتىجہ پر پہنچ جاتے ہىں کہ اس کائنات کا کوئى خالق ہى نہىں اگر اس کائنات کا کوئى خالق مان بھى لىں تو پھر دىن اور مذہب کى ضرورت کا انکار کرتے ہوئے نظر آتے ہىں بقول ان کے جب اللہ تعالى نے انسان کو نفع و نقصان کے ادراک کے لىے عقل سلىم دے رکھى ہے تو پھر اىک خاص دىن کى پىروى کى کىا ضرورت ہے؟ ىا اس طرح سے کہىں کہ عقل اور دىن ىا عقل اور وحى کا باہمى تعلق کىا ہے؟ جب اللہ تعالى کى جانب سے بھىجے ادىان کے اندر اتنى کثرت پائى جاتى ہے تو پھر اىک دىن کى پابندى کىوں ضرورى ہے؟ ۔۔۔ ان جدىد علم کلام کے مڈىولز مىں کوشش کى گئى ہے ان سوالات اور ان جىسے بہت سے دوسرے سوالات پر علمى تناظر مىں گفتگو کى جائے گى اور طلباء کے اندر عصر حاضر کے جدىد عقىدتى چىلنجز کا سامنا کرنے اور ان کا معقول اور مدلّل جواب دىنے کى صلاحىت کو ابھارا جائے گا۔
2. عقلىات (منطق و٬ فلسفہ):
کسى بھى علم مىں غور وفکر اور اس سے نتىجہ نکالنے مىں غلطى سے بچنے کىلئے علم منطق کے اصول و قواعد کو جاننا اور ان کو عملى جامہ پہنانا بہت ضرورى ہے اور اىسا علم جس کا سروکار استدلال اور برہان سے ہو اس مىں منطق کى ضرورت کئى گنا زىادہ ہو جاتى ہے۔ لہذاکلام اسلامى مىں منطق کى افادىت اور ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پروگرام مىں کچھ ماڈىولز علم منطق کے رکھے گے ہىں۔
اگرچہ فلسفہ کو تعرىف کے قفس مىں بند کرنا ممکن نہىں لىکن عقلى اور منطقى طرىقہ کار سے انسانى زندگى کے بنىادى سوالات کے جواب کى تلاش کو فلسفہ کا نام دىا جا سکتا ہے۔ معمولاً فلسفہ پر راسخ عقائد کو مجروح کر دىنے کا اتہام لگاىا جاتا ہے لىکن حقىقت ىہ ہے کہ اگرعلم کلام کے ساتھ فلسفہ کا مطالعہ نہ کىا جائے تو علم کلام جامد اور بے لچک ہو جاتا ہے۔ لہذا فلسفہ کو نظر انداز کر دىنے کے بجائے اس کى جدىد مباحث کونصاب مىں شامل کرنے کى ضرورت ہے جو آج کى فکرى دنىا مىں زىر بحث ہىں اور فکر و ذہن کے سانچے بنانے مىں اپنا کردار ادا کر رہے ہىں ۔ فلسفہ سے مربوط ماڈىولز مىں طلباء فلسفہ اسلامى کى تارىخ کے ساتھ ساتھ اس کے مختلف مکاتب٬ بنىادى اصطلاحات اور اہم مباحث سے آشنا ہوں گے اور ما بعد الطبىعىات کا تفصىلى مطالعہ کرىں گے۔
ان ماڈىولز کا بنىادى مقصد طلبا کو منطق اور فلسفے کى کلىدى اور بنىادى بحثوں سے روشناس کروانا اور ان کى استدلالى اور تنقىدى صلاحىتوں کوپروان چڑھانا ہے۔
3. عربى زبان و ادب:
کلام اسلامى کے اس پروگرام مىں کچھ ماڈىولز عربى زبان کے لىے رکھے گے ہىں چونکہ دىن فہمى اور اسلامى علوم (Islamic Sciences) تک گہرى رسائى کے لىے عربى زبان و ادب کلىدى اہمىت کى حامل ہے ۔ ان ماڈىولز کو ابتدائى درجہ سے لىکر ترقى ىافتہ درجے تک اس طرح ڈىزائن کىا گىا ہے کہ طلباء عربى کتب مىں استعمال ہونے والى زبان کو آسانى سے سىکھ سکىں۔
ان ماڈىولز کو دو حصّوں مىں تقسىم کىا گىا ہے۔ ابتدائى اور بنىادى حصّے (Basic Level) مىں طلباء عربى گرامر ىعنى علم الصرف اور علم النحو کى ابتدائى مباحث سے آشناىى حاصل کرىں گے اور دوسرے حصّے مىں علم الصرف ٬علم النحو اور تجزىہ و ترکىب کى مباحث کا تفصىلى مطالعہ کرىں گے۔ ان ماڈىولز کے اختتام پر طلباء٬ دىنى بالخصوص کلام اسلامى پر عربى زبان مىں لکھى کتابوں کا مطالعہ کر سکىں گے۔
4. علوم قرآن و تفسىر:
بلا شک تلاوتِ قرآن عبادت ہے لىکن تلاوتِ قرآن کے ساتھ ساتھ قرآن فہمى بہت بڑى عبادت اور سعادت ہے۔ اس ہدف کو مدنظر رکھتے ہوے کلام اسلامى کے پروگرام مىں علوم قرآن اور تفسىرکے کچھ ماڈىولز رکھے گئے ہىں جن مىں طلباء علوم قرآن کى بنىادى مضامىن اور بعض قرآنى سوروں کى ابتدائى تفسىر سے آشنا ہوتے ہوے قرآن مىں بىان کردہ اہم اخلاقى مفاہىم کا مطالعہ کرىں گے۔ ان ماڈىولز کا بنىادى مقصد طلباء کو قرآنىات سے آشنا کرنا اور ان کے اندر قرآن کے مطالعے کا شوق پىدا کرنا ہے۔
5. فقہ و اصول:
اسلامى علوم مىں عقائد اسلامى اور اخلاقىات کے ساتھ ساتھ فقہ اسلامى کى اہمىت اور ضرورت کسى پر پوشىدہ نہىں ۔ اگر اىک انسان اپنى عقل اور استدلال کى بنا پر اعتقادات کى نہاىت مضبوط بنىاد قائم کرنے مىں کامىاب ہو جائے لىکن اس محکم اور مضبوط بنىاد پر دستورات الہى کو انجام دىتے ہوے اعمال کى حسىں عمارت کھڑى نہ کرے تو اسے اس محکم بنىاد کا کوئى فائدہ حاصل نہىں ہو گا ىعنى علم فقہ کے بغىر انسان کى زندگى ادھورى اور نا مکمل رہتى ہے۔
فقہ اور اصول کى اہمىت کو مد نظر رکھتے ہوے اس پروگرام مىں کچھ ماڈىولز فقہ اور اصول کے رکھے گئے ہىں جن مىں طلباء کو عبادات٬ معاملات و ۔۔۔ جىسے اہم فقہى مسائل کى عقلى اور نقلى دلائل (قرآن٬ سنت٬ عقل اور اجماع)کى روشنى مىں استدلالى انداز سے تعلىم دى جائے گى۔